5 اگست 2017 - 13:49
دھشتگردی کا مکمل خاتمہ تمام ممالک کے باہمی تعاون سے ممکن: ڈاکٹر لاریجانی

اسلامي جمہوريہ ايران كي پارليمنٹ كے اسپيكر نے خطے اور دنيا بھر ميں دہشت گردي كي كارروائيوں كا ذكر كرتے ہوئے كہا ہے كہ دہشت گردي كے بحرانوں كا خاتمہ دنيا كے سب ممالك كے باہمي تعاون سے ہي ممكن ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامي جمہوريہ ايران كي پارليمنٹ كے اسپيكر نے خطے اور دنيا بھر ميں دہشت گردي كي كارروائيوں كا ذكر كرتے ہوئے كہا ہے كہ دہشت گردي كے بحرانوں كا خاتمہ دنيا كے سب ممالك كے باہمي تعاون سے ہي ممكن ہے.

يہ بات ڈاكٹر 'علي لاريجاني' نے ہفتے كے روز آسٹريائي مجلس(پارليمنٹ) كے نائب اسپيكر 'كارل هاينس كيف' كي ملاقات كے موقع پر گفتگو كرتے ہوئے كہي.

انہوں نے ايران اور آسٹريا كے درميان تاريخي اور تعميري تعلقات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ ايران كے 12ويں صدر ڈاكٹر حسن روحاني كي تقريب حلف برداري ميں آسٹريا كے پارليماني وفد كي شركت، دونوں ممالك كے دوستانہ روابط كي نشاندہي كرتي ہے.

علي لاريجاني نے گزشتہ پانچ صديوں كے دوران ايران، آسٹريا كے اچھے تعلقات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ ايٹمي مذاكرات ميں آسٹريا كے موثر اور تعميري كردار كا خيرمقدم كرتے ہيں.

انہوں نے دونوں ممالك كے درميان بينكاري تعاون كے فروغ كے ليے آسٹرين حكومت كے نقطہ نظر كي تعريف كرتے ہوئے كہا كہ آسٹريا كا رويہ،دونوں ممالك كے درميان اقتصادي اور تجارتي تعاون كي ترقي اور فروغ كا باعث ہوگا.

انہوں نے مزيد كہا كہ اس ميدان ميں بعض يورپي ممالك سرگرم عمل ہيں اور كچھ ممالك اس راستے ميں كچھ ركاوٹيں پيدا كر رہے ہيں ليكن اس كے باوجود يقيني طور پر اسلامي جمہوريہ ايران نے ان تمام حالات كے لئے منصوبہ بندي كي ہے.

ايراني اسپيكر نے خطے ميں سيكورٹي اور دہشت گردي كے بحرانوں كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ يقيني طور پر، موجودہ حالات ميں تمام ممالك كو اس مسئلے كو جلد حل كرنے كے لئے باہمي تعاون كرنا چاہيے اور اس كے علاوہ گروپ 1+5 كے ركن ممالك ايٹمي سمجھوتے كے تناظر ميں اپنے تمام وعدوں پر عمل درآمد كر كے اپنے پريشان كن اقدامات سے باز رہيں.

كارل هاينس كيف نے دونوں ممالك كے تاريخي اور مضبوط تعلقات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ ہم نے ہميشہ دونوں ممالك كے درميان تعلقات كو توسيع دينے كي كوشش كي ہے اور خوش قسمتي سے موجودہ صورتحال ميں ان دونوں ممالك كے مابين اچھے تعلقات قائم ہيں.

انہوں نے عالمي جوہري معاہدے كے حوالے سے ايران كي سنجيدہ اور بھرپور كوششوں كو سراہتے ہوئے كہا كہ ايٹمي معاہدہ، موجودہ صورتحال كے ساتھ خلل اندازي كرنے والوں كے اثر و رسوخ كے بغير نافذ ہو رہا ہے.

انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے كے نفاذ كے ليے اسلامي جمہوريہ ايران كا رويہ، اس معاہدے كے ناقدين كے لئے ايك اچھا جواب تھا.

انہوں نےعلاقائي اور بين الاقوامي بحرانوں كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ دہشت گردوں كو آلہ طور پر استعمال كرنے والے بعض ممالك كي غلط پاليسياں، ان تمام بحرانوں كا نتيجہ ہيں.

حاليہ برسوں ميں ايران اور آسٹريا كے درميان مثبت رجحان كا حوالہ ديتے ہوئے انہوں نے كہا كہ خوش قسمتي سے دونوں ممالك كے تعلقات كي شرح ميں اضافہ ہو رہا ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲